"تاریخ میں لکھا جائے گا کہ پاکستان میں دو طرح کے صحافی تھے، ایک وہ جنہیں سچ بولنے پر نوکری سے نکالا گیا، جن کی زندگیاں اور گھر کا سکون داو پر لگ گیا، اور دوسرے وہ چند ٹَکوں پر بِکنے والے ضمیر فروش ہیں جو آئین توڑنے کا آلہ کار بنے، ایسے صحافیوں سے بہتر تو بازار حسن کی طوائف ہے جس
@Ameer Abbas
1 grabs
No comments yet
Say something. You’re first.