دنیا کے دوسرے ممالک میں اسی عمر کے بچے اپنے ہم عمروں کے ساتھ کھیلتے ہیں اور اسکولوں میں سائنسی و جدید تعلیم حاصل کرتے ہیں، مگر افغانستان میں 6 سے 16 سال کے لڑکوں کو طالبان مذہبی تعلیم کے نام پر اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں۔ یہ معصوم بچے طالبان کمانڈروں کے ذاتی تسلط کا شکار بن جاتے
@Abbas Bugti journalist
1 grabs
No comments yet
Say something. You’re first.