آئے تو میری روح کو تڑپا کے چل دیئے اُلفت کی اک شراب سی برسا کے چل دیئے ان کے حجاب میں نہ کوئی بھی کمی ہوئی میری نگاہِ شوق کو ترسا کے چل دیئے تقدیر اس کو کہتے ہیں قسمت ہے اس کا نام تسکین دینے آئے تھے، تڑپا کے چل دیئے آئے تو تھے کہ درد مٹا دیں گے قلب کا دیکھا جو حال غیر تو گھبرا
@░B░O░S░S 𓄂ـﮩ٨ـﮩﮩ𓄂𝐁𝐑❂𓃗
1 grabs
No comments yet
Say something. You’re first.