وہ دوپہر کی روٹی سر پر رکھے کھیتوں میں شوہر کے پاس جانے کیلئے بےتاب تھی۔ مگر راستے میں ان کا نوکر پسینے سے تر چہرہ اٹھایا، مسکرا کر بولا: "تم آ گئیں؟" وہ بولی: "روٹی دینے نہیں، تمہاری تھکن بانٹنے آئی ہوں۔" کچھ رشتے روٹی سے نہیں، ایک دوسرے کا دکھ بانٹنے سے زندہ رہتے ہیں۔
@زانی زاکر
1 grabs
No comments yet
Say something. You’re first.